کچھ لوگ ۔۔۔
سنا ہے کچھ لوگ کتابوں جیسے ہوتے ہیں یعنی عمدہ نصابوں جیسے ہوتے ہیں تحریر کی ہر ایک گہرائی میں اتر کر پڑھ پاؤ تو الجھے سوالوں جیسے ہوتے ہیں سنا ہے کچھ اَن کہی کہانیاں بھی رکھتے ہیں یعنی اپنا ہی ایک اندازِ بیاں رکھتے ہیں کبھی آؤ تو لیکر اتنی فرصتیں آنا۔۔۔۔ کہ قصے کچھ نشانیوں جیسے ہوتے ہیں پری ذاد سے چہروں پہ نقابیں ہیں کتنی ہر ایک کے معنی چراغوں جیسے ہوتے ہیں آخری ورق پہ لکھی ایک بات پہ مسلکٓ دل ڈوب کے ابھرا، کہ کچھ لوگ کچھ نا بھی ہوں تو دریا کے کناروں جیسے ہوتے ہیں زندگی کی ڈولتی ناؤ کے لیے، سہاروں جیسے ہوتے ہیں سنا ہے کچھ لوگ کتابوں جیسے ہوتے ہیں یعنی عمدہ نصابوں جیسے ہوتے ہیں
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
