hisar e ishq
حصارِ عشق میں ہو گر تمہیں محبت سے آزادی چاہیے ہو تو ہاں مجھے بیشک بھلا دینا محبت کی زنجیروں سے ہاں مجھے آذاد کرلینا نئے تعلق بنا لینا نئے رشتوں سے جُڑ جانا محبت کی راہوں سے تم شاید بھٹک جاؤ یا مجھ سے بچھڑ جاؤ مگر اك وقت آئےگا زمانہ چھوڑ جائےگا اپنے روٹھ جائیں گے یوں ہی منہ موڑ جائیں گے اندھیری سرد راتوں میں یونہی پھرنا پڑےگا سرِ شام گلیوں میں کسی کی یاد میں پھرنا پڑےگا کوئی یوں ہی چھوڑ جائے تو درد کیسا ي ہوتا ہے تمھیں اندازہ آخر ہو ہی جائے گا تب تمھیں احساس شاید ہو تمھیں تکلیف شاید ہو کہ اپنے چھوڑ جائیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے کسی کو پا کے کھو دینا ي احساس ہے جاناں ہلاکت خیز ہوتا ہے ہاں مجھے جب چھوڑ جاؤ تم تمھیں احساس ہوجائے گر اپنی بغاوت کا میری محبت کا آدھی رفاقت کا طولانی جُدائی کا جب ترے پھولوں کی خوشبو ختم ہوجائےگی نا جب مسکان چہرے کی تیری اُداسی میں بدل جائیگی نا اور آنکھوں میں تیری نمی در اجائیگی نا تو کبھی رونا نہیں اچھا! کہ میں پاس ہوں تیرے ہمیشہ کبھی جب یاد اؤں تو مجھے واپس بلا لینا میں تیری آواز سن کر پلٹ اؤنگا وعدہ ہے کیوںکہ میں حصارِ عشق میں ہوں حصارِ عشق میں ہوں ۔۔۔۔۔ (کاظمی)
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
