Hal e Dil
ہے عجب ان دنوں مجھ پر اک کیفیت طاری لگے خود مجھ پر آپ اپنا کیوں اس قدر بھاری ہر اگلا قدم لائے اک نئی دراڑ مجھ میں مٹی کا پتلا ہوں میں نوری نہ میں ناری دور پہاڑ کی چوٹی پر لئے اشک آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں جلتی دل کی بستیاں ساری ابھی تو مہکنا شروع کیا تھا اس گل کی نازک کلیوں نے فصلِ بہار میں کس نے چلا دی ان پہ آری سنا ہے کوچ کر گیا وہ شخص اس دورِ فانی سے گزار دی زندگی جس نے رہ کر خود سے انجان ساری سمجھ کر زمانے کو نامحرم میں اپنے باطن کا چھپا دی لا کر اک ہنسی دل کی کیفیت ساری
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
