گول
وہ پھولوں سے شرابور اک گلستان وہ مکینوں کے ہر طرف کچے مکاں وہ آرام کنڈ کے مہکتے سے میدان وہ چرلی منڈلو کے جنگل و بیابان وہ آستان کنڈ و مُتگلہ کے آستان وہ گھوڑا گلی میں قدیم ثقافتی نشان قطار در قطار ہوں جیسےفوجی جواں مہماں نوازی بھی ہے بھر پور یہاں جدھر دیکھو کوہسار ہیں جنت نشاں کچھ بھی نہیں ہے یہاں پہ رائیگاں نہ ہو جاؤ مکینوں گول سے بدگماں پھیلی سبزے کی چادر ہر سو یہاں لگتا ہے ممکناً جیسے ہوگی جنت یہاں گرم پانی کے چشمے بھی ابلتے یہاں بہت قیمتی معدنیات بھی نکلتے یہاں عجب بیل بوٹے اور انگنت بوٹیاں ژمسر ، دغن و سرکنٹھا کے کوہستان اونچے اس قدر ہیں جیسے ہوں آسماں معصوم الحق معصوم
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
