غزل احباب کی نظر
زندگی کے غم میں ڈوبا ہوں ایسے سارے خواب ٹوٹ گئے ہوں جیسے اضطراب دل کی کیا بیان کروں میں یہ اک حال پر ٹھہر گیا ہوں جیسے نا درد دل رہا نہ آرزو اور نہ تمنا میری یہ حسرت مر گئی ہو جیسے کس طرح زیست کا بیان کروں میں میں نے اس کو کھو دیا ہو جیسے کیا کیا نہیں کیا زمانے نے سلوک سید میں اک پتھر کی مانند ہوں جیسے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
