"غزہ کی راکھ میں بچپن"
دو پرچھائیاں… گرد میں لپٹی، شام کی آخری دھوپ میں بکھری ہوئی، ایک لڑکا — ایک لڑکی ایک بھائی — ایک بہن نہ ہنسی، نہ صدا، بس خاموشی کا ماتم، اور راکھ پر پڑے دو چھوٹے قدم۔ (۲) وہ لڑکی، دس برس کی — لباس چاک، پیاس سے بھری آنکھیں جیسے کسی کھلونے نے خود کو توڑ دیا ہو، اور اب وہ دنیا کو سمجھنا چھوڑ چکی ہو۔ وہ لڑکا — بارہ برس کا، بازوؤں میں تھکن، نگاہوں میں سوال جیسے وہ خود، اپنے وجود پر حیران ہو کہ زندگی اب بھی باقی ہے… کیوں؟ (۳) جب دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے، تو وقت نے سانس لینا چھوڑ دیا۔ نہ لفظ بولے، نہ شکایت کی — صرف ایک معانقہ، جیسے راکھ، راکھ سے لپٹ گئی ہو تازگی کی طلب میں۔ (۴) آسمان جھک آیا اور ملبے پر پہلا تارا گرا جیسے کہہ رہا ہو: "دیکھو، بچپن اب بھی سانس لیتا ہے… بس آنسوؤں میں بھیگا ہوا ہے۔" (۵) یہ نظم صرف ایک تصویر نہیں یہ چیخ ہے اُن لمحوں کی جنہوں نے معصوم دلوں کو وقت سے پہلے بڑا کر دیا — اور دنیا خاموش رہی… جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
