"دھویں میں چھپا خدا"
میں نے آج پھر سگریٹ سلگائی ہے نہ لطف کے لیے نہ انداز کے لیے بس… کچھ دیر کے لیے اپنے ہوش سے بھاگنے کے لیے۔ ہر گلی میں جھنڈے ہیں ہر زبان پر نعرے اور فرش پر انسانوں کا خون جو شاید کسی مذہب کے نہیں تھے بس سانس لیتے وجود تھے جو اب دلیلوں میں دفن ہو چکے ہیں۔ کبھی قرآن جلتا ہے، کبھی مندر کی دیوار اور لوگ… یہ سب دیکھ کر خاموش نہیں، خوش ہوتے ہیں جیسے نفرت ہی عبادت کا نیا نام بن چکی ہو۔ میں کچھ نہیں کہتا کہوں تو "دشمنِ دین" یا "قوم سے غداری" تو بہتر ہے خاموشی کی راکھ اوڑھ لوں اور دھویں میں چھپ جاؤں جہاں سوال جل جاتے ہیں، اور جواب سُلگتے ہیں۔ میری سانسوں میں بوجھ ہے میرے لفظوں میں تھکن اور دل میں ایک ہی چیخ — یہ جو ہو رہا ہے، یہ مذہب نہیں ہو سکتا یہ کچھ اور ہے… کچھ ایسا جو خدا بھی برداشت نہ کرے۔ اور اگر کہیں خدا اب بھی ہے تو شاید وہ بھی اس دھویں میں کھو گیا ہے۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
