دوریاں
عالمِ مدہوشی میں... ایک خواب بہت ستاتا ہے وہ جو بہت پاس ہے میرے دل کے... کہیں دور چلا جاتا ہے ہے ستمگری کا یہاں وہ مقام کہ... جاتے ہوئے نقشِ پا بھی وہ مٹا جاتا ہے لاکھ ڈھونڈا اُسے میں نے مگر ہر بار... یہ دلِ پُرامید ناکام لوٹ جاتا ہے وہ کچھ اس طرح مجھ سے گُم ہوا جیسے... کوئی چیز کہیں رکھ کر کوئی بھول جاتا ہے آفتاب کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک... دلِ نادان ایک عمر گزار جاتا ہے آخیر تھک ہار کر جو رُخ کیا مے خانے کو... دیکھ کر کہا ساقی نے "وقتِ ملاقات اب ہوا جاتا ہے"
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
