دلِ نادان
دلِ نادان کو سمجھایا بہت، مانا نہیں ہم نے ہر راز چھپایا بہت، مانا نہیں اشک آنکھوں سے بہائے بھی تو چپکے چپکے درد دل میں ہی بسایا بہت، مانا نہیں وہ جو بچھڑا تو ہر اک سانس ادھوری سی لگی ہم نے خود کو بھی ہنسایا بہت، مانا نہیں اب تو خاموشی ہی بہتر ہے مری دنیا میں ہم نے ہر بات بتایا بہت، مانا نہیں
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
