دل کے کمرے میں برساتی شام
بارش برس رہی ہے — جیسے وقت پگھل رہا ہو، میں، کھڑکی کے پاس، ساکت، ایک خاموش مجسمہ، جس کے اندر ایک شور ہے — نہ کہا ہوا، نہ سُنا گیا، بس دل کے کسی گہرے گوشے میں پلتا ہوا۔ ۲. کبھی بجلی چمکتی ہے، اور لمحہ بھر کو میں خود کو دیکھ لیتا ہوں، ایک سایہ — جو اپنے ہی خوابوں کے ملبے میں کھڑا ہے، نہ مکمل، نہ گم، بس رُکا ہوا… جیسے گھڑی کی سوئی، سسکیوں میں۔ ۳. یاد آتے ہیں وہ لوگ — جو چلے گئے وقت کی ندی میں، اور وہ بھی — جن کا قدم ابھی میرے سکوت کی دہلیز پر نہیں پڑا، دل میں اک خلا سا ہے — جو پکار رہا ہے، اور کوئی سن نہیں رہا۔ ۴. میں سوچتا ہوں… کہ وہ عظیم نظم، وہ میرا مہاکاویہ — جس میں میری روح سانس لیتی تھی، اب تک ادھورا ہے، ٹوٹے لفظوں میں بکھرا، کبھی دل کی دیوار پر، کبھی کاغذ کی گرد میں۔ ۵. بارش کے قطروں میں بنتے چھوٹے بلبلے مجھے یاد دلاتے ہیں — زندگی کا وہ افغانی سچ: "زندگی میزریگان" — دریا ہے، بہتا ہے، پیچھے نہیں پلٹتا، خواہ ہم روئیں یا لکھیں۔ ۶. اور میں؟ میں وہی ہوں — اک آواز، جو لفظوں میں خود کو ڈھونڈتی ہے، اک قطرہ، جو دریا سے الگ نہیں، اک شاعر، جو ابھی تک اپنے اندر کی نظم کو پورے جہاں تک پہنچا نہ سکا۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
