دعا
ہم نے اُسے کبھی بد دعا نہیں دی کہ "بھاڑ میں جاؤ"... حالانکہ چھین لی ہماری بہار، پھر بھی دعا ہے کہ بہار میں جاؤ۔ کیا گِلے شکوے کریں، خود کی ہی تو تھی نادانی... ہماری زندگی ہو گئی ویران، پھر بھی دعا ہے کہ بہار میں جاؤ۔ کیوں دو الزام اُسے بے وفائی کا، جب قسمت نے ہی مارا ہمیں... ہم ہو گئے اُس کی محبت میں نیلام، پھر بھی دعا ہے کہ بہار میں جاؤ۔ نہ انتخاب نہ ہے ہمیں اب اُس کی سزا پہ کوئی ملال... آپ کی فراق سے ہے ہمارا حال بےحال، پھر بھی دعا ہے کہ بہار میں جاؤ۔ دل پر لکھا ہے اُس کا نام، سانسوں میں بسا ہے وہ پیام... اب بھی دل سے نکلتی ہے صدا، اے جانِ جاں! بس بہار میں جاؤ۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
