چمکتی رات
چمکتی رات میں خوابوں کی برسات ہے خاموش فضا میں چھپی کوئی بات ہے چاندنی بکھرے تو دل بھی سنور جاتا ہے ہر ستارہ جیسے کوئی راز سناتا ہے ہوا کی سرگوشی میں نرمی سی رات ہے تنہائی بھی آج لگے خاص سی بات ہے آنکھوں میں جگنوؤں کی روشنی ساتھ ہے دل کے ہر کونے میں امید کی برسات ہے یہ چمکتی رات کچھ کہہ کے گزر جائے گی یادوں کی صورت ہمیشہ یہ ٹھہر جائے گی
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
