بھول چکے !
زندگی کی اس کشمکش میں بھول چکے ہیں لوگ کہ عبادت بھی کچھ ہوتی ہے۔ زمانے کے بدچلن میں بھول چکے ہیں لوگ کہ شریعت بھی کچھ ہوتی ہے۔ دنیا کی حسرتوں میں بھول چکے ہیں لوگ کہ آخرت بھی کچھ ہوتی ہے۔ زندگی کی رنگینیوں میں بھول چکے ہیں لوگ کہ موت بھی کچھ ہوتی ہے۔ اس غفلت بھری نیند میں بھول چکے ہیں لوگ کہ بیداری بھی کچھ ہوتی ہے۔ انہیں لگتی ہے ہر جو چیز نہیں کچھ ہوتی ہے وہ بھی بہت کچھ ہوتی ہے۔ کون سمجھائے کسی کو کہ یہ دنیا فانی ہے نہیں کچھ ہوتی ہے مقامِ آخرت بھی بہت کچھ ہوتی ہے۔ - نیہا خاتون
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
