"بدبختی میری کہ تم ناراض ہو"
وہ زندہ ہے… پر اب بات نہیں کرتی۔ میں روز سوچتا ہوں، آج شاید وہ مسکرا دے، شاید کہہ دے — "بیٹا، آ جا بیٹھ جا" پر وہ چپ رہتی ہے۔ میں بھی چپ رہتا ہوں۔ ہم دونوں کے بیچ ایک عجیب سا پردہ ہے، جو لفظوں سے نہیں، پچھتاوے سے بنا ہے۔ میں کبھی اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پاتا، کیونکہ وہاں اب آنسو نہیں، میرے حصے کی ملامت ہے۔ کاش وہ جانتی — میں اب وہ ضدی بچہ نہیں رہا، جو اس کی باتوں پر ناراض ہو جاتا تھا۔ اب تو میں خود سے ناراض رہتا ہوں۔ میں بس چاہتا ہوں کہ وہ ایک بار پھر مجھے سمجھے، جیسے پہلے سمجھتی تھی — بغیر کہے، بغیر پوچھے۔ پر وقت بدل گیا ہے۔ وہ اب بھی وہی ہے، بس میں نہیں رہا۔ اور یہ سب جانتے ہوئے بھی، میں روز دروازے کے پاس رکتا ہوں، دل کہتا ہے — "چل جا، شاید آج وہ خود بلائے۔" پر وہ نہیں بلاتی، اور میں نہیں جاتا۔ ہم دونوں زندہ ہیں، مگر ایک دوسرے کے بغیر۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
