بچھڑے وہ پل
بچھڑے وہ پل یاد کے سایوں میں ڈھل گئے ہم دیکھتے رہ گئے، لمحے نکل گئے خوشبو سی تھی ساتھ جو تیری ہنسی کے ساتھ اب یاد کے زخموں میں وہ رنگ مچل گئے باتوں کی وہ گرمی بھی کہیں کھو سی گئی الفاظ سبی سرد ہو کر سنبھل گئے ہم نے تو سنبھالے تھے وہ لمحے بڑے شوق سے وقت آیا تو ہاتھوں سے سب پھسل گئے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
