Baba ki yaad ma kxh ilfaz
آپکو واپس میں لاؤں کیسے اِک نظم اپنے بابا چوہدری ارشد محمود ٹلوانہ کے نام آپکے بن جینا ، اس دل کو سکھاؤں کیسے ہوں دل شکستہ ، آپکو واپس میں لاؤں کیسے لوگ کہتے ہیں کہ باپ چلا گیا تو کیا ہوا جائیداد ،بینک بیلنس اور گھر تو چھوڑ گیا نہ ارشد لوگوں کے نزدیک ہوگا یہ سب کچھ اہم کاش کہ ایسا ممکن ہوتا ان سب چیزوں کے بدلے اپنی زندگی باپ جیسی نعمت کو واپس لا سکتے ہوتے چیزوں کا نعمل بدل ممکن ہے لیکن انسان کا نہیں ہماری تربیت نے یہ ہمیں سکھایا پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا پیسہ ہو اور اگر پیار کرنے والا نہیں تو پیسے کا فائدہ نہیں لوگ بات کرتے وقت یہ نہیں سوچتے اگلے بندے پر کیا گزرے جب بر داشت ختم ہو جائے جواب دیں تو بدتمیز آپکو یاد کرکے جو گرتے ہیں آنسو میرے ہر لمحہ ہر چیز کے ساتھ آپکی یادیں بہت ستاتی ہیں بابا بعد آپکے جو کچھ بھی ہے بیتا مجھ پر داستاں وہ میں آپکو سناؤں کیسے وہ جو سویا تو اس دن تو نہ اٹھا کبھی رہی سوچتی میں آپکو جگاؤں کیسے پوچھتے ہیں یہ جو مجھ سے کے آپ کیسے تھے آپکی عظمت کا انکو بتاؤں کیسے آپکو بچھڑے اِک عرصہ اب ہونے کو ہے مگر اس دل کو یہ یقین میں دلاو ں کیسے چہرے کی اس ہنسی پر نہ جاؤں لوگوں تم کو دل کے زخم میں دکھاؤں کیسے آپکے بغیر ہر خوشی ادھُوری لگتی ہے بابا آپکے نا زوں سے پالے ہوئے سانپوں سے ہماری خوشیاں برداشت نہیں ہوتی بابا آپکو واپس میں لاؤں کیسے
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
