بے نام رشتہ
وہ جو کبھی مانگا نہیں، پھر بھی مل گیا، ایسا کوئی شخص، جس سے بات ہو… تو دل کو سکون ملے۔ نہ کوئی وعدہ، نہ کوئی دعویٰ، پھر بھی دل کہتا ہے، "شکر ہے وہ ہے۔" میں نہیں چاہتا کہ وہ بہت قریب آئے، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ کبھی دور ہو جائے۔ بس وہ یوں ہی رہے، تھوڑا سا پاس، تھوڑا سا دور، جیسے ہوا کا نرم جھونکا۔ کبھی سوچا اس رشتے کو کیا نام دوں؟ دوستی؟ محبت؟ یا کچھ اور؟ پھر سمجھ آیا، یہ رشتہ بس "شکر" ہے… شکر اُس کے ہونے کا، شکر اُس کے کہے اور ان کہے لفظوں کا۔ یہ بے نام سا رشتہ، میری زندگی کی خاموش دعا ہے۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
