ایک شام ستارے اور میں
کھیتوں میں نرم ہوا بہہ رہی ہے کیڑے اپنی دھن میں مگن ہیں اور رات کی گہرائی ستاروں کے دیپ جلا رہی ہے۔ یہ منظر کتنا خوبصورت ہے کہ ہر ذرے سے زندگی کی مسکراہٹ جھلکتی ہے۔ مگر میرا دل— وہ اس سب کا حصہ نہیں۔ میرا دکھ مجھے ان روشنیوں سے الگ کر دیتا ہے۔ قدرت میرے سامنے اپنی کتاب کھولے بیٹھی ہے لیکن میری آنکھوں پر غم کی دھند ہے۔ میں دیکھتا ہوں، مگر نہیں دیکھ پاتا میں سنتا ہوں، مگر آوازیں میرے اندر نہیں اترتیں۔ کاش میرا دل بھی ان ستاروں کی طرح روشن ہوتا کاش میرا غم ان کھیتوں کی ہوا کے ساتھ کہیں دور نکل جاتا۔ مگر میں ہوں— اپنی یادوں کا قیدی قدرت کی گود میں بیٹھا ہوا پھر بھی تنہا۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
