ایک ہم
تیرا ذکر عجیب ہے رات کے اندھیرے میں بھی مجھے اور زیادہ اکیلا کر دیتا ہے میرے کمرے کی دیواریں اب مجھ سے سوال کرتی ہیں کہ وہ خواب کہاں گئے جنہیں تم نے بڑا کیا تھا میں ان دیواروں کو کیا جواب دوں بس خاموشی سے ان کے سوال سنتا رہتا ہوں ایک قیدی کی طرح نہ جانے آج وہ کن خیالوں میں گم ہو گی کن باتوں پر ہنستی ہو گی اور یہاں صرف بربادی ہے غم ہے یاس ہے فریاد ہے میں کاغذوں پر سیاہی بھرتا جا رہا ہوں جیسے اپنے وجود کو لفظوں میں انڈیل رہا ہوں یہ کاغذ میری واحد تسلی ہیں میں اپنا غم انہی میں بانٹتا ہوں انہی سیاہیوں میں شاید میں خود کو نہیں لکھ رہا شاید میں خود کو بچا رہا ہوں
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
