ایک لاش
میں کئی برسوں سے ایک بوجھ اُٹھائے پھرتا ہوں بوجھ… جو کسی کو نظر نہیں آتا مگر میری سانسوں میں روز مر جاتا ہے وہ لاش میری اپنی ہے مگر بالکل اجنبی شاید وہ میں ہوں جو کبھی جیا ہی نہیں یا وہ میں جو تھک کر بیٹھ گیا کہیں میں اسے چھپانا نہیں چاہتا بس رکھ دینا چاہتا ہوں کسی نرم سی مٹی پر جہاں تھکاوٹ کو بھی آرام ملے اور انتظار کی نبض آہستہ چلنے لگے میں ہنس بھی لیتا ہوں باتیں بھی کر لیتا ہوں پر اندر کہیں وہ لاش خاموش لیٹی رہتی ہے کچھ کہنا چاہتی ہے مگر لفظ ہونٹوں تک آتے آتے دم توڑ دیتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ایک دن یہ بوجھ اتر جائے اور میں خود کو اپنے آپ کی قبر سے واپس زندگی میں بلا لوں
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
