اور اخری ازاد انسان چلا گیا
آج زمین نے آہ بھری ہے، آج آسمان بھی خاموش کھڑا ہے، ایک آواز تھی جو ظلم سے ٹکراتی تھی، وہ آواز آج لہو میں نہا کر سو گئی ہے۔ آیتُ اللہ سید علی خامنہ ای، تم نے خود کو کسی ایک قوم تک محدود نہ رکھا، تم نے کہا تھا — انسان کی حرمت سب سے بڑی چیز ہے۔ جب طاقت کے ایوان اونچے ہوئے، جب حق کی قیمت کم ہونے لگی، تم نے سر اُٹھا کر کہا: سچ کو خریدا نہیں جا سکتا۔ تم وارثِ امامِ حسینؑ کے عزم کے تھے، مگر تمہاری جنگ صرف ایک سرزمین کی نہ تھی، تم ہر اس دل کے لیے کھڑے تھے جو خوف میں جکڑا ہوا تھا۔ آج تم مظلومانہ چلے گئے، دنیا کے شور میں تنہا کھڑے رہے، ایک طرف طاقت کے لشکر تھے، ایک طرف تمہارا یقین۔ کہتے ہیں زمانہ بدل گیا ہے، مگر ظلم کی صورت وہی ہے، اور سچ کی قیمت بھی وہی — لہو۔ اے آخری آزاد انسان، تمہاری شہادت سوال بن کر رہ گئی ہے: کیا دنیا اب بھی آزادی کو پہچانے گی؟ یا طاقت ہی کو حق سمجھے گی؟ آج بہت سے دل خاموش ہیں، بہت سی زبانیں بند ہیں، مگر تاریخ گواہ رہے گی کہ ایک شخص تھا جو پورے نظام کے سامنے کھڑا رہا۔ تم چلے گئے، مگر اگر ایک بھی انسان ظلم کے آگے “نہیں” کہنے کی ہمت کرے، تو سمجھو تم زندہ ہو۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
