انگوٹھی
وہ دن خاص تھا۔ دل میں خواب تھا، ہتھیلی میں پسینے سے بھیگی ہوئی ایک رسید — دادی کی دی ہوئی چاندی کی چین، جسے بچپن سے سینے سے لگا رکھا تھا، آج اُس نے بیچ دی تھی۔ اور اُس کے بدلے خریدی ایک سونے کی انگوٹھی، سادہ سی، لیکن قیمتی — جس میں وہ اپنی ساری محبت بند کر چکا تھا۔ وہ سیدھا پارک آیا، جہاں اکثر وہ دونوں ملا کرتے تھے۔ درختوں کے نیچے وہی بینچ، جس پر وہ گھنٹوں بیٹھتے، مسکراتے، خاموش دعائیں کرتے۔ آج وہی بینچ… لیکن منظر کچھ اور تھا۔ وہ وہاں تھی — لیکن اکیلی نہیں۔ کسی اور کے ساتھ، ہاتھ میں ہاتھ، آنکھوں میں روشنی، جیسے کوئی نیا آغاز ہو۔ وہ ایک لمحے کو رکا۔ نہ سانس لی، نہ آنکھ جھپکی۔ ہتھیلی کی انگوٹھی جیسے کانٹوں میں بدل گئی۔ جیب میں چین کی کمی محسوس ہوئی، جیسے دادی کا لمس بھی ساتھ چلا گیا ہو۔ وہ کچھ نہ بولا، نہ سوال کیا، نہ نام لیا — بس پلٹ گیا، خاموشی کے ساتھ، بھیڑ میں گم، جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔ اب انگوٹھی اس کے پاس تھی، اور کوئی وعدہ باقی نہیں رہا تھا۔ بس ایک سوال رہ گیا تھا: جب محبت ہی نہ بچے، تو تحفے کا کیا کیا جائے؟
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
