"اک کردار باقی ہے"
آج میں گھر پہ بیٹھا ہوں، آج چھٹی کا دن ہے دل میں ایک پرانی سی سوچ، کچھ یادوں کا بن ہے میں سوچتا ہوں اُس کہانی کو، جو برسوں سے دل میں ہے جس میں جنگیں، راجے، سپاہی، اور کچھ راز چھپے مل میں ہیں میرے ذہن میں کردار بہت ہیں، سب اپنا رنگ رکھتے ہیں کوئی روشنی جیسا چمکتا ہے، کوئی دکھ میں جلتے ہیں ایک دیوی ہے، ایک بادشاہ، کچھ خوابوں والے سپاہی ایک فقیر ہے جو کچھ نہ ہو کر بھی لگتا ہے سب کا راہی مگر اک کردار ابھی باقی ہے، جو کہانی کو پورا کرے اک سایہ سا، جو چھپا ہوا ہے، جو دل کو تھوڑا سا ڈرائے وہ "سایوں کا دیوتا" ہے، سچ میں یا شاید بس ایک دھوکہ نہ وہ آیا سامنے اب تک، نہ اُس نے خود کو دکھایا پورا کبھی لگتا ہے وہ میں خود ہوں، یا شاید میرے اندر چھپا ہے اک خاموشی، اک اندھیرا، جو لفظوں کے پیچھے چھپا رہتا ہے جب تک وہ لکھا نہ جائے، میری کہانی ادھوری ہے جیسے رات ہو پر چاند نہیں، جیسے بات ہو پر بات پوری نہیں شاید وہ تب آئے گا، جب میں خود کو سمجھ پاؤں گا جب دل کے سب دروازے کھلیں گے، اور میں سچ میں کچھ لکھ پاؤں گا
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
