عجب یہ تماشا ✨
عجب یہ کھیل تھا، جی کر دکھایا ہم نے خود اپنے ہاتھ سے اپنا گھر جلایا ہم نے جہاں پہ تھک کے گرے تھے، وہاں سے دور تلک کسی کے نقشِ قدم کو بھی نہ پایا ہم نے وہ اندھیرا تھا کہ پہچان ہی نہ پائے اسے جسے چراغ کی صورت میں جلایا ہم نے کبھی جو ضبط کا ٹوٹا ہے بند، پھر یاد آیا وہ ایک شخص جسے دل سے بھلایا ہم نے بکھر کے رہ گئے غرور کے تماشے سب احمدؔ! یہ کس کو زمانے میں ہنسایا ہم نے؟
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
