اج کل کا مجنوں
مجنوں بیٹھا، ہاتھ خالی، دل خالی، لیلی کہیں واٹس ایپ پہ، کبھی فیس بک پہ۔ ہر عاشق فون پہ چھا رہا، اور ہمارا مجنون، بس دیکھ رہا۔ سرکار نے نوکریاں دینا بند کر دی ہیں، سب اپنے ڈیزاین کے خواب سنوار رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو گاڑیاں گفٹ کر رہے، مجنوں کی جیب میں صرف ہوا ہے، اور تھوڑا سا خواب۔ ہر گلی، ہر چوک، نشے کی خوشبو، ہر دوکان، ہر کمرہ، زہر بیچا جا رہا ہے۔ مجنوں بس پیار کے نشے میں ہے، اور دل کی دوا تلاش کر رہا ہے۔ لیلہ کی ہنسی، ہر پوسٹ، ہر اسٹوری، ایک فاصلے کی صدا، جو مجنون کے کانوں میں بج رہی ہے۔ نوجوانوں کے دل، اکاؤنٹس میں بٹے ہوئے، اور شہر میں ہر لمحہ دھوکہ اور خواہش چھلکتی ہے۔ راتیں طویل، دن خالی، نالائق سیاستدان، بے روزگار نوجوان۔ مجنوں سوچ رہا ہے، قلم ہاتھ میں، کب لکھوں اس ویراں شہر کی کہانی؟ شاید آج نہیں، شاید کل، مگر یہ درد اور طنز، اس کی دنیا میں رہ جائے گا۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
