Ahmed Faraz
زندہ تھا تو کسی نے نہ پوچھا حالت جگر اب مر گئے ہیں تو مٹی میں دبانے آگئے چھوڑ کے دنیا کو مدھوش ہوئے تھے ہم وہ نا جانے کیا سوچ کر ہم کو جگانے آگئے نا جانے کس سے پوچھا ہے وفا نے پتہ میرا میری قبر پہ بھی ہم کو جگانے آگئے ہم تو اندھیرے میں سونے کے عادی تھے اور وہ بیوفا میری قبر پر دیے جلانے آگئے زندہ تھا تو ایک نظر نہ دیکھا پیار سے فراز مر گئے ہیں تو اب قبر پہ آنْسُو بہانے آ گئے تیمور راجپوت😎
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
