اب کیا کہوں میں
اب کیا کہوں میں، اب کیا کہوں میں، کل تک جو اپنے تھے، آج کیوں ہیں بیگانے۔ ساتھ بیٹھے، ہنستے، لڑتے اور مناتے تھے، دوستی کے ہر وعدے دل سے نبھاتے تھے۔ ہر بات میں رنگ تھا، ہر لمحہ سہانا تھا، ایک دوسرے کے ساتھ جینا ہی بہانا تھا۔ اب وہ ہنسی کی محفل کہیں کھو سی گئی، وقت کی گرد میں ہر بات سو سی گئی۔ اب وہ صرف یاد ہیں، دل کے ویرانے میں، ہم بھی افسانے بن گئے گزرے زمانے میں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
