آج کا دن
بارش باہر گاتی رہی، بادل گرجتے، چیختے رہے، کمرے میں تنہا بیٹھا میں، خامشی سے بھی بھیگتا رہا۔ قلم اُٹھایا، لفظ نہ ملے، سوچ کا دریا خشک سا تھا، دل میں کچھ کہنا چاہا تھا، پر ذہن کہیں اور الجھا رہا۔ کتاب اُٹھائی، کچھ پڑھ لیا، چند سطریں، کچھ گمشدہ خیال، اُسے پکارنے کا دل بھی آیا، پھر ذہن نے روکا، عجیب سا حال۔ چائے نے تھوڑا ساتھ دیا، مَیگی کی خوشبو میں تھوڑی پناہ، باہر بارش، اندر ادھوری باتیں، کسی یاد کی گرد میں دل کی راہ۔ آخر شب کو نیند بھی آ گئی، خاموش، مدھم، بےصدا سی نیند، جیسے دن نے سب کہے بغیر اک پرسکون اختتام چُن لیا۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
