آداب زندگی
دلِ ناداں کو اب سمجھانا سیکھو خود ہی اپنی آگ میں جل جانا سیکھو سنا ہے عشق میں ملتی ہیں رسوائیاں زمانے کی نظروں سے چھپ جانا سیکھو یہ دنیا ہے یہاں ہر چہرہ جھوٹا ہے دلوں کے بھید کو پہچاننا سیکھو کہاں تک ساتھ دے گی یہ امیدِ سحر اندھیری رات میں مسکرانا سیکھو جو راستہ منزلوں کی سمت جاتا ہے اسی رستے پہ تم اب جانا سیکھو جہاں میں معتبر ٹھہرو گے احمدؔ پہلے خود کو تم مٹانا سیکھو
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
