"اے مولویِ کشمیر!"
تم نے عمر بھر خُمس اور زکوٰۃ کھایا، نہ پوچھا حساب، نہ کبھی کچھ لوٹایا۔ بس ایران، کم، نجف، مدینے کی بات، پر تمھارے دلوں میں نہ صدق، نہ ذات۔ تم بولے بہت، پر عمل کچھ نہ کیا، بس سادہ عوام کو خوابوں میں رکھا۔ کہا بھائی چارہ، پر خود بھائی کے خلاف، کیا یہی ہے تمھارا دینِ شفاف؟ اج لڑ رہے ہو، گریبان تھامے، جنھیں دین سکھانا تھا، خود بٹ گئے گھامے۔ تم لوگوں کو کیا اخوت سمجھاؤ گے؟ جو خود اپنے بھائی کو کھا جاؤ گے؟ کبھی آئین دکھایا؟ کبھی حق سنایا؟ یا منبر کو بھی تخت کا زینہ بنایا؟ نہ قرآن کی روح، نہ محمدؐ کی راہ، تمھارا ہر فتوٰی ہے صرف اک گمراہ۔ اٹھو، ابھی وقت ہے، لوٹ آؤ روشنی میں، ورنہ تاریخ لکھے گی، تمھیں بھی اندھیری میں۔ دین کی نہیں تمھیں کوئی پرواہ، بس دکان بچاؤ، یہی ہے تمھاری چاہ!
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
